
کائنات کے کچھ حصوں میں زندگی کچھ اس طرح محبوس نظر آتی ہے کہ قدم قدم پر
گویا سانسسیں اپنے آنے جانے کا تاوان دے رہی ہوں،چودہ مارچ کے اخبارات میں
ایک افسوسناک خبر نے ہمیں افسردہ کر دیا ہم سوچنے پر مجبور ہوئے کہ مردوں
کے خلاف حقوق نسواں بل ان خواتین کے حوالے سے کیوں خاموش ہے جو ساس کے روپ
میں بہو پر اور بہو کے روپ میں ساس پر ظلم ڈھاتیں ہیں،یاکڑے پہننا اور اپنے
ہی گھر سے دو روز کے لیے بے دخلی کی سزا
صرف مردوں کے لیے ہی ہے،خبر کے مطابق پنجاب کے شہر پتوکی کے نواحی علاقے
ملاں والا میں ساس رانی بی بی نے جہیز نہ لانے کی پاداش میں بونگا بلوچاں
پھول نگر سے بیاہ کر لائی جانے والی اپنی 20روزہ نئی نویلی دلہن اقراء کا
سر مونڈ کر اسے گھر سے نکال دیا ،اس شرمناک واقعہ پر نئے نئے لبرل بننے
والے شریف برادران کا موقف ابھی سامنے نہیں آیا ،دیکھنا ہو گاکہ حقوق نسواں
کے چمپین ایسے واقعات کے خلاف کب بل لاتے ہیں ،اقوام عالم کے تمام مہذاہب
کے مقابلے میں اسلام عورت کو سب سے زیادہ بلند مقام اور عزت دیتا ہے یہ اور
بات ہے کہ دین سے دوری اور تعلیم کی کمی کے باعث مرد حضرات کی اکثریت
خواتین کے حقوق بارے لا علم ہے اس کا بہترین حل یہ ہوسکتا ہے کہ علماء
اکرام اس مسلے پر لوگوں کو اگاہی دیں اپنے جلسوں میں اپنے تقاریر میں اپنے
خطابات میں خواتین کو اسلام میں دی جانے والی عزت اور تکریم کے متلق بیان
کریں ،اس میں کوئی شک نہیں کہ خواتین کو معاشرے میں بہت سی مشکلات درپیش
ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حکومت مغرب کی خوشنودی کے لیے قران
وسنت سے مارواء قانون سازی کرتے ہوئے مردوں کو کڑے پہنانے اور اپنے ہی گھر
سے باہر رہنے کی سزائیں تجویز کرتی پھرے،دونوں بھائی تو نام کے بھی شریف
ہیں اپنی بیویوں سے ڈرتے ہی ہوں گے لیکن ایک عام خاتون اس قانون کے تحت
اپنا گھر اجاڑ بیٹھے گی اس قانون کو لانے والے خواتین کے جانب سے گھریلو
تشدد کے خلاف مردوں کے حقوق کا بل لانے کی جسارت کریں گے
،ہمارے معاشرے میں
ایسے بے شمار مرد موجود ہیں جو اپنے بیوی بچوں کی کفالت کرنے کے باوجود
اپنے گھر میں غلاموں سے بدتر زندگی گذار رہے ہیں،جن کی بیویاں ان پر تشدد
کرتی اور خاوند کے لیے انتہائی گندی زبان استعمال کرتی ہیں،اگر کسی کو شک
ہو تو ہم سندھ میں اپنے شہر کے ایک ایسے شخص سے ملوا سکتے ہیں جو اپنی بیوی
کے ظلم کا شکار ہے صبح سے رات دیر گئے ہوٹل پر کام کرنے والا یہ شخص اپنے
بچوں کی وجہ سے اپنی بیوی کا تشدد برداشت کرنے کے علاوہ اپنی آنکھوں کے
سامنے اس کو بے حیائی کرتے دیکھ کر بھی کچھ کرنے سے قاصر ہے ،لبرل شریف
ایسی خواتین کے لیے کوئی قانون بناسکتے ہیں نہیں کیونکہ دونوں شریفوں پر
آزاد خیالی اور مادر پدر آزادی کا بھوت سوار ہے ،خدا کے بجائے امریکہ کوخوش
رکھنا ان کے لیے ضروری ہے،غلطی بہر حال غلطی ہوتی ہے اور اس کا اندراج
قدرت کے رجسٹر میں خودبخود ہو جاتا ہے،اور غلطی کی سزا بھی ہوتی ہے جس کے
لیے شریفوں کو تیار بھی رہنا چاہیے

0 comments:
Post a Comment