ایسا ہو جاتا ہے اس لئے اگر میرے بہت اچھے سیاستدان دوست نے جلد بازی میں
اور جوش و جذبہ سے مغلوب ہو کر کوئی ایسا ویسا نعرہ لگا دیا اور فوراً
اپنی غلطی کا کھلے دل سے اعتراف بھی کر لیا تو یار لوگوں کو سپورٹسمین سپرٹ
کا مظاہرہ کرنا چاہئے کہ جوش خطابت میں تو ایک لیڈر نے یہ تک کہہ دیا
تھا۔کیا خوب فرماتے ہیں شیخ سعدیؒ بانگِ درا میں ’’عشق پر زور نہیں ہے یہ
وہ آتش غالب۔۔وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے‘‘ اور خود غالب نے کہا تھا
نا
غلطی ہائے مضامیں مت پوچھ
لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں
اب تو خیر برقی کتابت کا زمانہ ہے لیکن جب کاتب حضرات ہاتھ سے کتابت کیا
کرتے تھے باوجود اس کے کہ اس زمانے میں کاتب بسا اوقات بعض شعراء کرام کے
دیوان کی کتابت کرتے ہوئے املا کے ساتھ ساتھ اشعار کی بھی اصلاح کر دیا
کرتے تھے۔یہ اصلاح کا سلسلہ بھی خوب ہے۔احمد فراز کی صدارت میں ہونے والے
ایک مشاعرہ کے بعد ایک سینئر شاعر نے جب ایک شاعر سے کہا کہ آپ کی غزل میں
کچھ مصرعے اصلاح طلب تھے پہلے تو آپ کسی کو دکھا کر پڑھا کرتے تھے تو اس نے
کہا جی اب بھی ایسا ہی کرتا ہوں۔ مگرچونکہ میں یہ نئی غزل کئی محفلوں میں
پیش کر چکا ہوں اور وہاں کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا تو میں سمجھا کہ شاید
اب اصلاح کی ضرورت نہیں ہے۔
اس لئے اتنے بڑے مشاعرے میں اعتماد کے ساتھ غزل پیش کر دی۔خیر اعتما د کبھی کبھی تفنن طبع کے لئے بھی ظاہر کرنا پڑتاہے کوئی ربع صدی پہلے اسلام آباد میں اہل قلم کانفرنس کی نشست اور عشائیہ کے بعد جب ہم اسلام آباد ہوٹل میں اپنے اپنے کمروں کو لوٹ رہے تھے تو مجھے سیڑھیوں میں لاہور کی اردو اور پنجابی کی شاعرہ عائشہ اسلم ملیں،کوئی سات آٹھ سال بعد ملاقات ہوئی تھی میں نے انہیں چائے کی دعوت دی۔
ان کی بس کے جانے میں ابھی کچھ دیر تھی۔ہم بیٹھ گئے۔میرے ساتھ مشتاق شباب ، نذیر تبسم اور مرحوم یوسف رجا چشتی بھی تھے ۔مگر ادبی گفتگو جب طول پکڑ گئی تو عائشہ اسلم نے اجازت طلب کی۔کہ کہیں بس نہ نکل جائے۔ پوچھا کہ آپ کہاں ٹھہری ہیں تو اس نے کہا کہ میں ایک رشتہ دار کے گھر جی۔سیون جاؤں گی مگر مجھے اسلام آباد کے راستوں کا علم نہیں۔چشتی مرحوم نے کہا کہ ناصر تم تویہاں رہ چکے ہو اگر ایڈریس معلوم ہو تو ہم اسے گاڑی میں چھوڑ آئیں گے۔
میں نے کہا جناب جی سیون تومجھے پشاور کی گلی کوچوں سے بھی زیادہ معلوم
ہے۔چشتی مرحوم نے کہا پھر تو کوئی بات نہیں۔دیر تک لاہور اور پشاور کے ادبی
منظر نامہ پر بات ہوئی شعر و شاعری بھی ہوئی۔ اور پھر ہم اسے چھوڑنے کے
لئے گاڑی میں بیٹھے جونہی گاڑی ہوٹل سے باہر نکلی اور چشتی مرحوم نے پوچھا
کہ کس طرف میں کہا بس جی سیدھا جائیں اور اگلے چوک سے لیفٹ لے لیں۔
اب رات کے ڈیڑھ دو بجے کا وقت دور دور تک کوئی متنفس نہیں تھا۔اور اب میںچشتی مرحوم کو کیا بتاتا کہ بھائی میرا جغرافیہ تو بیسیوں بار کے دیکھے بھالے راستوں پر کبھی میری مدد نہیں کرتا۔ بیس برس پہلے کے چھوڑے ہوئے اسلام آباد جس کے سارے خدو خال بدل چکے ہیںاب مجھے کیا خبر کہ جی سیون کہاں ہے۔دو گھنٹوں کی بے معنی ایکسرسائیز کے بعد ایک گلی کے کونے پرگاڑی روک کر چشتی مرحوم نے میری طرف دیکھ کر کہا۔میں نے اپنی پوری زندگی میں اتنے اعتماد کے ساتھ کسی کو جھوٹ بولتے نہیں دیکھا جس اعتماد سے تم نے کہا تھا۔’’ جناب جی سیون تومجھے پشاور کی گلی کوچوں سے بھی زیادہ معلوم ہے۔‘‘مشتاق شباب اور نذیر تبسم نے اپنی ہنسی روک کر کہ انہیں میری شرارت اور میرے جغرافیہ کا بخوبی علم تھا،بہ آواز بلند ان کی تائید کی ۔یہ اور بات کہ اسی گلی کے موڑ پر عائشہ اسلم نے کہا،نہیں نہیں بالکل صحیح جگہ پر ہیں۔
وہ رہا سامنے میرے بہنوئی کا گھر اور وہ تو اترکر چلی گئی مگر میری جاں ایک عرصہ تک عذاب میں رہی۔ کیونکہ اگر کوئی اور بھی مجھ سے کسی کے گھر کا ایڈریس پوچھتا تو چشتی مرحوم پورا واقعہ سنا کر کہتے۔’’کس سے پوچھ رہے ہو‘‘خیر اعتماد سے جھوٹ بولنا تو بڑی اٹکل مانگتا ہے اور غلطی تو بس ہو جاتی ہے۔جس کی معافی بھی مل جاتی ہے مگر جھوٹ کی تو معافی بھی نہیں ملتی اور کوئی مانگے بھی تو کیسے مانگ سکتا ہے۔ ہاں اگر کوئی امیر مینائی کے محبوب کی طرح کائیاں ہو تو وہ سرے سے اس جھانسے میں آتا ہی نہیں۔
آیا نہ ایک بار عیادت کو وہ مسیح
سو بار میں فریب سے بیمار ہو گیا
غلطی کے لئے تو کسی فریب یا منصوبہ بندی کی ضرورت نہیں ہو تی کیونکہ بعض اوقات تو اعصاب کے مضمحل اور بے ترتیب ہونے سے بھی غلطی سرزد ہو جاتی ہے اور اس کے لئے کسی کو الزام بھی نہیں دیا جاسکتا۔
کسی کے آنے سے ساقی کے ہوش ایسے اڑے
شراب سیخ پہ ڈالی ، کباب شیشے میں
شنید ہے کہ ایک محفل میں سٹیج پر ایک لمبے بالوں اور کانوں میں بالیاں ڈالے ایک گلوکار ہ بے سرا گانا گا رہی تھی۔ تماشائیوں میں سے ایک صاحب نے اپنے دائیں طرف بیٹھے تماشائی سے کہا۔ دیکھو جی یہ لڑکی کتنا برا گا رہی ہے۔ اس تماشائی نے بڑے روکھے پن سے کہا۔کیا بات کر رہے ہیں یہ لڑکی نہیں میرا بیٹا ہے۔وہ صاحب بڑے شرمندہ ہوئے اور اپنی غلطی کی معافی مانگتے ہوئے کہنے لگے’’ معذرت خواہ ہوں مجھے علم نہیں تھا کہ آپ اس کے والد ہیں‘‘ تماشائی نے پہلے سے زیادہ روکھے پن اور غصے سے کہا’’ ہوش کے ناخن لیں میں اس کا والد نہیں والدہ ہوں‘‘اس کے بعد راوی خاموش ہے کہ ’’ آخر کودیوانوں پہ کیا گذری‘‘سیانے ٹھیک کہتے ہیںکہ انسان کو بولنا سیکھنے کے لئے دو تین سال کافی ہوتے ہیں مگر یہ سیکھنے کے لئے کہ کب نہیں بولنا بسا اوقات پوری عمر بھی کم پڑ جاتی ہے۔اس لئے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب تک وہ محفل میں بولا نہیں تھا لوگ اسے مدبر اور عقلمند سمجھتے رہے۔ گویا ہر شخص اپنی زبان کے پیچھے چھپا ہو تا ہے۔
اسی کی دہائی میں پشاور میں ایک شاعر حیات نظامی ہوا کرتا تھا۔اس نے مرحوم نیشنل سنٹر پشاور کے ایک مشاعرہ کا قصہ سناتے ہوئے کہا کہ شروع میں کچھ نو آموز شعراء آئے اور پھیکے پھیکے شعر سنائے مشاعرہ بن نہیں رہا تھا پھر ایک شاعر کا نام لیا گیا تو مجھے خوشی ہوئی کہ چلئے اب بات بنے گی وہ نستعلیق سے شاعرسر پر قراقلی ٹوپی خوبصورت کوٹ عینک لگائے ہوئے روسٹرم تک آئے میں سنبھل گیا مگر جونہی اس نے غزل شروع کی،میں نے سر پیٹ لیا مجھے پھیکے اشعار سنانے والے نو آموز شعراء پرپیار آنے لگا کہ موصوف بہ ایں جبہ و دستار بے وزن اور بے بحر شعر سنانے لگے تھے۔ اس طرح کی غلطیاں اور بد حواسیاں ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لائیو شوز میں زیادہ ہوتی ہیں اور وہ غلطیاں تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ ہماری ایک سینئیر نیوزکاسٹر نے پی ٹی وی کے خبر نامہ میںخبر پڑھتے ہوئے ذرا سی غلطی کی اور احساس ہونے پر کہا کہ معافی چاہتی ہوں میں اس خبر کو دوبارہ پڑھتی ہوں مگر اتفاق سے وہ دوبارہ بھی ٹھیک نہ پڑھ سکیں اور اس بات کا اتنا بوجھ اس کے ذہن پر پڑا کہ کہنے لگی’’معافی چاہتی ہوں میں یہ خبر پھر سے ’غلط‘ پڑھتی ہوں اور مزے کی بات یہ ہے کہ پھر بھی اس نے اسے غلط ہی پڑھا۔ایسا ہوتا ہے ایسا ہو جاتا ہے اس لئے اگر میرے بہت اچھے سیاستدان دوست نے جلد بازی میں اور جوش و جذبہ سے مغلوب ہو کر کوئی ایسا ویسا نعرہ لگا دیا اور فوراً اپنی غلطی کا کھلے دل سے اعتراف بھی کر لیا تو یار لوگوں کو سپورٹسمین سپرٹ کا مظاہرہ کرنا چاہئے کہ جوش خطابت میں تو ایک لیڈر نے یہ تک کہہ دیا تھا۔کیا خوب فرماتے ہیں شیخ سعدیؒ بانگِ درا میں ’’عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب۔۔وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے‘‘ اور خود غالب نے کہا تھا نا
غلطی ہائے مضامیں مت پوچھ
لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں
غلطی ہائے مضامیں مت پوچھ
لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں
اب تو خیر برقی کتابت کا زمانہ ہے لیکن جب کاتب حضرات ہاتھ سے کتابت کیا
کرتے تھے باوجود اس کے کہ اس زمانے میں کاتب بسا اوقات بعض شعراء کرام کے
دیوان کی کتابت کرتے ہوئے املا کے ساتھ ساتھ اشعار کی بھی اصلاح کر دیا
کرتے تھے۔یہ اصلاح کا سلسلہ بھی خوب ہے۔احمد فراز کی صدارت میں ہونے والے
ایک مشاعرہ کے بعد ایک سینئر شاعر نے جب ایک شاعر سے کہا کہ آپ کی غزل میں
کچھ مصرعے اصلاح طلب تھے پہلے تو آپ کسی کو دکھا کر پڑھا کرتے تھے تو اس نے
کہا جی اب بھی ایسا ہی کرتا ہوں۔ مگرچونکہ میں یہ نئی غزل کئی محفلوں میں
پیش کر چکا ہوں اور وہاں کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا تو میں سمجھا کہ شاید
اب اصلاح کی ضرورت نہیں ہے۔اس لئے اتنے بڑے مشاعرے میں اعتماد کے ساتھ غزل پیش کر دی۔خیر اعتما د کبھی کبھی تفنن طبع کے لئے بھی ظاہر کرنا پڑتاہے کوئی ربع صدی پہلے اسلام آباد میں اہل قلم کانفرنس کی نشست اور عشائیہ کے بعد جب ہم اسلام آباد ہوٹل میں اپنے اپنے کمروں کو لوٹ رہے تھے تو مجھے سیڑھیوں میں لاہور کی اردو اور پنجابی کی شاعرہ عائشہ اسلم ملیں،کوئی سات آٹھ سال بعد ملاقات ہوئی تھی میں نے انہیں چائے کی دعوت دی۔
ان کی بس کے جانے میں ابھی کچھ دیر تھی۔ہم بیٹھ گئے۔میرے ساتھ مشتاق شباب ، نذیر تبسم اور مرحوم یوسف رجا چشتی بھی تھے ۔مگر ادبی گفتگو جب طول پکڑ گئی تو عائشہ اسلم نے اجازت طلب کی۔کہ کہیں بس نہ نکل جائے۔ پوچھا کہ آپ کہاں ٹھہری ہیں تو اس نے کہا کہ میں ایک رشتہ دار کے گھر جی۔سیون جاؤں گی مگر مجھے اسلام آباد کے راستوں کا علم نہیں۔چشتی مرحوم نے کہا کہ ناصر تم تویہاں رہ چکے ہو اگر ایڈریس معلوم ہو تو ہم اسے گاڑی میں چھوڑ آئیں گے۔
میں نے کہا جناب جی سیون تومجھے پشاور کی گلی کوچوں سے بھی زیادہ معلوم
ہے۔چشتی مرحوم نے کہا پھر تو کوئی بات نہیں۔دیر تک لاہور اور پشاور کے ادبی
منظر نامہ پر بات ہوئی شعر و شاعری بھی ہوئی۔ اور پھر ہم اسے چھوڑنے کے
لئے گاڑی میں بیٹھے جونہی گاڑی ہوٹل سے باہر نکلی اور چشتی مرحوم نے پوچھا
کہ کس طرف میں کہا بس جی سیدھا جائیں اور اگلے چوک سے لیفٹ لے لیں۔اب رات کے ڈیڑھ دو بجے کا وقت دور دور تک کوئی متنفس نہیں تھا۔اور اب میںچشتی مرحوم کو کیا بتاتا کہ بھائی میرا جغرافیہ تو بیسیوں بار کے دیکھے بھالے راستوں پر کبھی میری مدد نہیں کرتا۔ بیس برس پہلے کے چھوڑے ہوئے اسلام آباد جس کے سارے خدو خال بدل چکے ہیںاب مجھے کیا خبر کہ جی سیون کہاں ہے۔دو گھنٹوں کی بے معنی ایکسرسائیز کے بعد ایک گلی کے کونے پرگاڑی روک کر چشتی مرحوم نے میری طرف دیکھ کر کہا۔میں نے اپنی پوری زندگی میں اتنے اعتماد کے ساتھ کسی کو جھوٹ بولتے نہیں دیکھا جس اعتماد سے تم نے کہا تھا۔’’ جناب جی سیون تومجھے پشاور کی گلی کوچوں سے بھی زیادہ معلوم ہے۔‘‘مشتاق شباب اور نذیر تبسم نے اپنی ہنسی روک کر کہ انہیں میری شرارت اور میرے جغرافیہ کا بخوبی علم تھا،بہ آواز بلند ان کی تائید کی ۔یہ اور بات کہ اسی گلی کے موڑ پر عائشہ اسلم نے کہا،نہیں نہیں بالکل صحیح جگہ پر ہیں۔
وہ رہا سامنے میرے بہنوئی کا گھر اور وہ تو اترکر چلی گئی مگر میری جاں ایک عرصہ تک عذاب میں رہی۔ کیونکہ اگر کوئی اور بھی مجھ سے کسی کے گھر کا ایڈریس پوچھتا تو چشتی مرحوم پورا واقعہ سنا کر کہتے۔’’کس سے پوچھ رہے ہو‘‘خیر اعتماد سے جھوٹ بولنا تو بڑی اٹکل مانگتا ہے اور غلطی تو بس ہو جاتی ہے۔جس کی معافی بھی مل جاتی ہے مگر جھوٹ کی تو معافی بھی نہیں ملتی اور کوئی مانگے بھی تو کیسے مانگ سکتا ہے۔ ہاں اگر کوئی امیر مینائی کے محبوب کی طرح کائیاں ہو تو وہ سرے سے اس جھانسے میں آتا ہی نہیں۔
آیا نہ ایک بار عیادت کو وہ مسیح
سو بار میں فریب سے بیمار ہو گیا
غلطی کے لئے تو کسی فریب یا منصوبہ بندی کی ضرورت نہیں ہو تی کیونکہ بعض اوقات تو اعصاب کے مضمحل اور بے ترتیب ہونے سے بھی غلطی سرزد ہو جاتی ہے اور اس کے لئے کسی کو الزام بھی نہیں دیا جاسکتا۔
کسی کے آنے سے ساقی کے ہوش ایسے اڑے
شراب سیخ پہ ڈالی ، کباب شیشے میں
شنید ہے کہ ایک محفل میں سٹیج پر ایک لمبے بالوں اور کانوں میں بالیاں ڈالے ایک گلوکار ہ بے سرا گانا گا رہی تھی۔ تماشائیوں میں سے ایک صاحب نے اپنے دائیں طرف بیٹھے تماشائی سے کہا۔ دیکھو جی یہ لڑکی کتنا برا گا رہی ہے۔ اس تماشائی نے بڑے روکھے پن سے کہا۔کیا بات کر رہے ہیں یہ لڑکی نہیں میرا بیٹا ہے۔وہ صاحب بڑے شرمندہ ہوئے اور اپنی غلطی کی معافی مانگتے ہوئے کہنے لگے’’ معذرت خواہ ہوں مجھے علم نہیں تھا کہ آپ اس کے والد ہیں‘‘ تماشائی نے پہلے سے زیادہ روکھے پن اور غصے سے کہا’’ ہوش کے ناخن لیں میں اس کا والد نہیں والدہ ہوں‘‘اس کے بعد راوی خاموش ہے کہ ’’ آخر کودیوانوں پہ کیا گذری‘‘سیانے ٹھیک کہتے ہیںکہ انسان کو بولنا سیکھنے کے لئے دو تین سال کافی ہوتے ہیں مگر یہ سیکھنے کے لئے کہ کب نہیں بولنا بسا اوقات پوری عمر بھی کم پڑ جاتی ہے۔اس لئے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب تک وہ محفل میں بولا نہیں تھا لوگ اسے مدبر اور عقلمند سمجھتے رہے۔ گویا ہر شخص اپنی زبان کے پیچھے چھپا ہو تا ہے۔
اسی کی دہائی میں پشاور میں ایک شاعر حیات نظامی ہوا کرتا تھا۔اس نے مرحوم نیشنل سنٹر پشاور کے ایک مشاعرہ کا قصہ سناتے ہوئے کہا کہ شروع میں کچھ نو آموز شعراء آئے اور پھیکے پھیکے شعر سنائے مشاعرہ بن نہیں رہا تھا پھر ایک شاعر کا نام لیا گیا تو مجھے خوشی ہوئی کہ چلئے اب بات بنے گی وہ نستعلیق سے شاعرسر پر قراقلی ٹوپی خوبصورت کوٹ عینک لگائے ہوئے روسٹرم تک آئے میں سنبھل گیا مگر جونہی اس نے غزل شروع کی،میں نے سر پیٹ لیا مجھے پھیکے اشعار سنانے والے نو آموز شعراء پرپیار آنے لگا کہ موصوف بہ ایں جبہ و دستار بے وزن اور بے بحر شعر سنانے لگے تھے۔ اس طرح کی غلطیاں اور بد حواسیاں ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لائیو شوز میں زیادہ ہوتی ہیں اور وہ غلطیاں تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ ہماری ایک سینئیر نیوزکاسٹر نے پی ٹی وی کے خبر نامہ میںخبر پڑھتے ہوئے ذرا سی غلطی کی اور احساس ہونے پر کہا کہ معافی چاہتی ہوں میں اس خبر کو دوبارہ پڑھتی ہوں مگر اتفاق سے وہ دوبارہ بھی ٹھیک نہ پڑھ سکیں اور اس بات کا اتنا بوجھ اس کے ذہن پر پڑا کہ کہنے لگی’’معافی چاہتی ہوں میں یہ خبر پھر سے ’غلط‘ پڑھتی ہوں اور مزے کی بات یہ ہے کہ پھر بھی اس نے اسے غلط ہی پڑھا۔ایسا ہوتا ہے ایسا ہو جاتا ہے اس لئے اگر میرے بہت اچھے سیاستدان دوست نے جلد بازی میں اور جوش و جذبہ سے مغلوب ہو کر کوئی ایسا ویسا نعرہ لگا دیا اور فوراً اپنی غلطی کا کھلے دل سے اعتراف بھی کر لیا تو یار لوگوں کو سپورٹسمین سپرٹ کا مظاہرہ کرنا چاہئے کہ جوش خطابت میں تو ایک لیڈر نے یہ تک کہہ دیا تھا۔کیا خوب فرماتے ہیں شیخ سعدیؒ بانگِ درا میں ’’عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب۔۔وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے‘‘ اور خود غالب نے کہا تھا نا
غلطی ہائے مضامیں مت پوچھ
لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں
0 comments:
Post a Comment