Saturday, 5 March 2016


پاکستانی نژاد برطانوی سیاستدان نویدہ اکرام کا آبائی تعلق ضلع راولپنڈی سے ہے ، اسکے والد ساٹھ کی دہائی میں برطانیہ آئے اور اپنی محنت سے مقام بنایا بعد ازاں بنک میں اعلی عہدہ پر بھی کام کیا ، رچڈل میں پیدا ہونے والی نویدہ اکرام نے سائیکالوجی میں ڈگری لی ، پاکستان اور برطانیہ دونوں جگہوں پر تعلیم حاصل کرنے کی بنا پر اردو اور انگلش سمیت پوٹھواری و پنجابی زبانوں پر عبور حاصل کیا ، مختلف چار ٹیز کے ساتھ کام کیا ، ائیر لائین میں اعلی عہدہ پر ملازمت کی ، دوہزار دس میں برطانیہ سے خطیر رقم اور بہت سے سامان سمیت ایک وفد اور ٹیم کے ساتھ پاکستان جاکر متاثرین کی عملی مدد کی ، انہی کی کاوشوں سے ائیر لائین پی آئی اے سارا سامان مفت لے گئی جس سے کارگو کے بھاری اخراجات کی بچت ہوئی ، سیاست کا آغاز لیبر پارٹی سے کیا ، دوہزار چار میں بریڈفورڈ سے کونسلر منتخب ہوکر پہلی پاکستانی نژاد برطانوی خاتون کونسلر ہونے کا اعزاز حاصل کیا ، پھر آپ ڈپٹی میئر اور بعد ازاں دوہزار گیارہ میں بریڈفور کی لارڈ مئیر منتخب ہوکر پہلی مسلمان خاتون لارڈ مئیر ہونے کا اعزاز حاصل کیا ، نویدہ کی محنت اور سیاسی بصیرت کی وجہ سے کہا جانے لگا کہ یہ خاتون بہت جلد برطانوی پارلیمانی سیاست میں بھی اپنے جوہر دکھائے گی ، انہیں عوامی سطح پر ایشین اور انگریز سمیت ہر کمیونٹی کی زبردست حمایت حاصل تھی اور ہے ، گزشتہ سال ہونے والے عام انتخابات کے وقت معروف سیاستدان جارج گیلوے کے مقابلے کے لیے انہیں لیبر پارٹی کی طرف سے سب سے مضبوط اور اہم امیدوار قرار دیا جارہا تھا ، وہ شارٹ لسٹ بھی ہوئیں لیکن یہاں سے گندی پاکستانی سیاست کا آغاز ہوتا ہے ، یوکے میں ٹکٹ کے لئے مقامی ارکان کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے ، انکا تعلق راولپنڈی سے تھا جبکہ مقامی طور پر لیبر پارٹی میں ضلع راولپنڈی کے مقابلے میں کشمیری کمیونٹی کی اکثریت تھی ، ان پر لنڈن سے تعلق رکھنے والی ایک صومالی نژاد خاتون کو ترجیح دی گئی جو بعد ازاں اپنی کسی ذاتی وجہ سے الیکشن نہ لڑیں ، لسٹ میں نویدہ کا نمبر دوسرا تھا جبکہ ناز شاہ کا تیسرا ، یہاں نویدہ کے ساتھ ایک اور سازش کی گئی ، سوشل میڈیا پر انکے نام سے مبینہ طور ایک جعلی اکائوٹنٹ بنا کر انہیں متعصب ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ، جعلی اکاونٹ سے صومالی نژاد پر نسل پرستانہ کلمات لکھے گئے ، نویدہ نے نہ صرف اس آکائنٹ کے جعلی ہونے پر زور دیا بلکہ خود تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ، یوں انہیں ایک متوقعہ سیٹ سے محروم کردیا گیا ، نویدہ نے نہ تو گلہ کیا اور نہ ہی پارٹی چھوڑی ، سازشی نویدہ کی مقبولیت سے اس قدر خائف اور اپنی سیاست کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں کہ سازشوں کا سلسلہ دراز کیے ہوئے ہیں لیکن نویدہ کہتی ہے وہ ہر آزمائش میں سرخرو ہو گی ، وہ کہتی ہے وہ ضرور کامیاب ہوگی

0 comments:

Post a Comment