تین سال پاکستان میں قیام اور عدالتی کاروائیوں کا سامنا کرنے کے بعد جنرل
پرویز مشرف '' علاج '' کے لئے دبئی پہنچ چکے ہیں ۔۔۔ موجودہ حالات میں
نواز شریف حکومت کا یہ اقدام دانشمندانہ ہے ۔۔۔ جنرل مشرف کے بیرون ملک
جانے سے یہ ثابت ہوا کہ :1۔ پاکستان میں جمہوریت کے باوجود طاقتور حلقوں کا ادارہ جاتی کنٹرول اسی طرح برقرار ہے۔
2۔ تین سال میں اگر کچھ نہیں ہو سکا تو آئندہ بھی '' کچھ نہ ہوسکنے '' کا امکان زیادہ تھا اس لئے ایسے معاملے سے جان چھڑا لینا ہی بہتر ہے ۔۔۔ حکومت کی کم از کم ایک ٹینشن تو کم ہوئی ۔۔۔
3۔ پاکستان کی عوام جس نے دس سال مشرف کی حکومت کو بخوشی قبول کیا اسے مشرف کو سزا دلوانے میں کوئی دلچسپی نہیں۔
4۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف طعنے دیں گے لیکن اگر یہ پارٹیاں اپنے گریبان میں جھانکیں تو پیپلز پارٹی پانچ سالہ اقتدار کے دوران محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کا کچھ نہ بگاڑ سکی اور تحریک انصاف تو ایشٹبلشمنٹ کی حامی جماعت ہے ۔۔اسے تو مشرف کے جانے سے خوشی ہوگی کیونکہ مشرف کی ق لیگ کی اکثریت نے یہی پارٹی جوائن کر رکھی ہے۔
5 ۔ مارشل لا لگانے کے خواہشمندوں کے لئے جنرل مشرف اور جنرل ضیا الحق کی مثالوں میں عبرت کا کافی سامان ہے ۔۔ دس سال حکومت کے باوجود اب جنرل ضیا الحق کا کوئی نام نہیں لیتا ۔۔۔ کوئی برسی نہیں مناتا ۔۔۔ جبکہ مشرف صاحب نے تین سال پاکستان میں رہ کر دیکھ لیا ۔۔فوج کے علاوہ کسی نے ان کا ساتھ نہ دیا ۔۔ کوئی ان کی حمایت میں نہیں اٹھا ۔۔۔۔ جنرل مشرف اپنے دور اقتدار میں خود کو نجات دہندہ سمجھتے تھے ۔۔۔ آج ان کے حق میں دو لفظ کہنے والا کوئی نہیں ۔۔۔ اس لئے ڈکٹیٹرشپ کی حمایت نادانی کے سوا کچھ نہیں ۔۔۔ اس کا انجام رسوائی اور گمنامی ہے ۔۔۔۔ بھٹو پھانسی چڑھ کے بھی زندہ ہے جبکہ جنرل ضیا ۔۔۔۔۔ '' شہید '' ہونے کے باوجود بھی گمنام ہے ۔۔۔
0 comments:
Post a Comment