دنیا میں اِس وقت لگ بھگ چھ ہزار ایک سو بانوے(6192) زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اگر مزید تفصیل میں جائیں تو امریکہ میں 238، چین میں 236، جاپان میں15، روس میں 105انڈیا میں 428، بنگلادیش میں39، ترکی میں36، افغانستان میں 47، سری لنکا میں 7، سعودی عرب میں 5 اور اپنے پاکستان میں 72زبانیں اور لہجے لوگوں کی زباں پر ہیں۔اِس گنتی میں چند ایک زبانیں وہ بھی ہیں جو متروک ہوتی جا رہی ہیں یا ہو چکی ہیں۔لوگ یہ زبانیں اِس لئے بولتے ہیں کہ اِن زبانوں میں اُن کی ما ¶ں نے اُنہیں لوریاں دیں،مکتب میں بطور ذریعہ تعلیم مروج تھیںیا اِن زبانوں کے بولنے والوں سے اُن کا زندگی میں کہیں نہ کہیں، کسی بھی حیثیت میں پالا پڑا۔ مادری زبان سے محبت تو سمجھ میں آتی ہے مگر باپ کی زبان کامعاشرت، ادب اور ثقافت میں ذکر تک نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔واقعاتی طور پر بھی یونہی ہوتا ہے کہ ماں بچے کو نوالہ توباپ کی کمائی سے کھلاتی ہے مگر زبان اپنی سکھاتی ہے۔یہ وہ زبان ہوتی ہے جس میں صرف خوشیوں اور مسرتوں کا ذکر نہیں ہوتا، بلکہ وہ ہجر بھی سر چڑھ کر بولتا ہے کہ جو بیاہ کی صورت،وہ والدین کے گھر سے بچھڑ کر اپنے ساتھ لاتی ہے۔ اس میں وہ محرومیاں بھی سب سے نمایاں ہوتی ہیں جو شوہر کے گھر میں بسرام کے نتیجے میں اُس کا مقدر بنی ہوئی ہوتی ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ماں کی زبان اور باپ کا لہجہ کبھی نہیں بھولتا۔جو بچے اپنی ماں اور باپ، دونوں کے ساتھ پرورش پاتے ہیں، اُن کی شخصیت میں گھر اور باہر دونوں کا تواز ن پایا جاتا ہے۔ باپ اگر اپنے لہجے سے دنیا سے نبر د آزما ہونا سکھاتا ہے تو ماں گھر میں رہنے کے ہنر سے روشناس کراتی ہے۔ باپ اگر اپنے حق کے حصول کے لئے ڈٹ جانا سکھاتا ہے تو ماں اِس حق کا شعور عطا کرتی ہے۔باپ اگر کامیابیوں کے گُر سے نوازتا ہے تو ماں ناکامیوں پر صبر کے ذائقے سے آشنا کرتی ہے۔اِسی طرح اگر انگاروں پر چلناباپ کی دسترس میں ہوتا ہے تو ماں اُن آبلوں پر اپنے آنسو ¶ں کا پھایا رکھنے پر قدرت رکھتی ہے، جو اِن انگاروں کی دین ہوتے ہیں۔انسانی شخصیت اور مزاج میں والدین کا عطا کردہ یہ توازن، حقیقت میں آگ اور پانی، شعلہ اور شبنم یا یوں کہہ لیں کہ گگن اور دھرتی کا میزانیہ ہوتا ہے۔
اِس فطری ناپ تول کی کمی ہمیں اُن لوگوں میں صاف صاف دکھائی دیتی ہے جو اپنا بچپن صرف ماں یا باپ کے پاس گزارتے ہیں۔ماں کی آغوش میں پلنے والے بچے جوان ہو کر حلیم طبع، نرم خو اور رقیق القلب تو یقینا ہوتے ہیں مگر اُس دبنگ آہنگ، جوش،عزم اور ولولے سے محروم ہوتے ہیں جو باپ کے لہجے کے سبب بچے کے رویے میں در آتا ہے۔اِسی طرح صرف والد کی اُنگلی پکڑ کر چلنے والے بچوں میں دبنگ آہنگ، غراہٹ میں، بہادری، خونخواری میں اور عزم اور ولولہ چھینا جھپٹی میں ڈھل جاتا ہے اور جوش،آپے سے باہر ہو کر ہوش کھو بیٹھتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے دنیا کے توازن کو تہہ و بالا کرنے میں بنیادی کردار عطا کیا،اپنے بچپن میں کسی نہ کسی حوالے سے والدین کے عطا کردہ توازن سے محروم رہے تھے۔
انسانی شخصیت کا یہ پہلو اتنا بھی ڈھکا چھپا نہیںکہ جہاں باپ کا لہجہ اُس کی جسمانی زباں (باڈی لینگوئج)کی تربیت کرتا ہے وہاں ماں بولی اُسے اُس اظہار پر مختیاری کے قابل بناتی ہے کہ جس کے بعدانفرادی ابلاغ کے لئے نہ تو کسی واسطے کی ضرورت باقی رہتی ہے اور نہ ہی کسی لحمی زبان (tongue)کی حاجت۔ یہ گویائی کی وہ معراج ہے کہ جہاں جسمِ انسانی کی پانچوں حسیں ایک ہی قوت یعنی قوت ِ بیان میں منقلب ہو جاتی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ماں بولی کی یہ ارتقائی شکل، انسان کو دیگر ہر قسم کے وسائل ِاظہار سے بے نیاز کر دیتی ہے۔یہی وہ مخصوص کیفیت ہے کہ جس کے بیدار ہونے پر گویائی، ایک بار پھر اُس کونپل کی شکل میں جنم لیتی ہے کہ جسے پیار کی زبان سے موسوم کیا جاتا ہے۔جو دنیا کا ہر شخص سمجھتا ہے۔جو دنیا کے ہر کونے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔مگراِس کے باوجود میں ہمیشہ حیرت میں رہا کہ لسانی ماہرین نے اِس عالمی زبان کو 6912زبانوں کی اُس فہرست میں شامل کیوں نہیں کیا، جو زمانہ ِ موجود میں بھی مروج چلی آتی ہیں۔اِس جواب کو پانے کے لئے میں نے اُن زبانوں کی فہرست کو بھی کھنگالا جو متروک ہو چکی ہیں، مگر اِس کا اندراج نہیںملا۔
پھر مجھے خیال آیا کہ رائج اور ترک کر دینے کے درمیان میں ایک درجہ فراموش کر دینے کا بھی ہوتا ہے۔ کہیں کوئی لا تعلقی بھی در آتی ہے۔ اغماص بھی برتا جاتا ہے۔لیکن آخر ہوا کیا کہ پیار کی زبان کے ہوتے ہوئے بھی لوگ اِس سے لاتعلق کیوں ہوگئے۔اِس میں کلام کرنے کو تیار نہیں، اِس سے اغماص کیوں برتنے لگے۔وہ کون سے عوامل ہیں کہ زبانیں، انسانوں کو باہم جوڑنے کی بجائے نفاق اور فساد کا باعث بن گئیں۔مسئلہ کیا ہے کہ دھرتی کو ماں کہنے والوں نے اپنی اپنی ماں بولی کے نام پر اُس مزاج تک کو فراموش کر دیا جو ماں کی میٹھی مسکراہٹ کے ساتھ بچے کے جسم و جاں میں تسکین بن کر جذب ہوتا چلا جاتا ہے اور عالمی امن وآشتی کا پیغام بن کر پھر سے جنم لیتا ہے۔ماں کے نام پر ہمارا رویہ، بِن ماں کے بچوں جیسا کیوں ہو گیا۔
اِن سوالوں کے جواب بھی ہمارے سامنے موجود رہتے ہیں، مگر ہم جان بوجھ کر اِ ن کی جانب آنکھ اُٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے اور اپنی اپنی فانی اغراض کی تکمیل کے لئے اِن لافانی حقائق سے اغماص برتتے چلے جاتے ہیں۔ بات سیدھی سی ہے کہ دنیا میں صرف ایک ہی لہجہ، باپ کا اور ایک ہی زبان، ماں کی ہے۔ باقی سب اُس کے جغرافیائی لبادے ہیں۔ ہمارے ہاں پیدا ہونے والا اگرپتھروں کے ڈھیر کو پہاڑ کہتا ہے تو برطانوی جم پل کے اُسے ما ¶نٹین اور عرب کے رہنے والے کے جبل کہنے سے پتھروں کے ڈھیر کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے، وہ تو پتھر ہی رہے گا۔پھر اِس میں جھگڑا کیا۔ مگر اصل جھگڑایہ بھی نہیں۔ اصل تنازعہ اُس گھن گرج اور چیخ چنگھاڑ کا ہے کہ جس نے پیار کی زبان کے میٹھے اوردھیمے ابلاغ کا راستہ روک رکھا ہے۔ سارا جھگڑا اپنی اپنی مفاد پرستی کے اُن بیریئرز کا ہے کہ جو مفاد عامہ کی شاہراہ پر لگا دیے گئے ہیں اور خود غرضی اور غاصبیت کے ہرکارے منہ سونگھنے کی بجائے منہ کھلوا کر زبانیں دیکھتے پھرتے ہیں کہ کہیں اِن میں پیار کی مٹھاس باقی تو نہیں رہ گئی۔ہم سے تو وہ جانور اور پرندے ہی اچھے کہ جنہیں پیار سے پچکارو تو جان کے خطرے کو بھی ایک طرف رکھ کر کھنچے چلے آتے ہیں۔
اِس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں پیار کی مٹھاس ختم ہوتی ہے، وہیں سے عداوت کی کڑواہٹ اپنے کیل کانٹے نکالنے لگتی ہے۔جہاں دلیل ختم ہو جاتی ہے وہاں سے تو تکار شروع ہوتی ہے۔اور جہاں زبان ساتھ چھوڑنے پر آجائے وہیں سے تشدد جنم لیتا ہے۔ہم متشدد اور مرنے مارنے پر آمادہ یونہی نہیں ہوئے، ہم نے ماں کی بخشی ہوئی اُس لوری کے رس گھولتے بولوں کو بھلا دیا کہ جو لاطینی امریکہ سے دنیا کی چھت کہلوائے جانے والے ملک تبت، گوبی جیسے عظیم صحرا سے بحیرہ اوقیانوس کی زیر آب حیات اور افریقہ کے اندھیرے جنگلات سے یورپ کی چکاچوند روشنیوں تک ایک ہی احساس عطا کرتے ہیں، ایک ہی تکلم کی شیرینی سے آشنا کرتے ہیں جوامن، محبت اور دلجوئی کے سواکچھ بھی نہیں۔
ہر طرف بڑھتے ہوئے تشدد، وحشت اور شور میں وہ زبان کہیں کھو گئی ہے کہ جسے 6912 زبانوں کی فہرست سے بھی پہلے اور سب سے اوپر ہونا چاہئے تھا۔یہی وہ زبان تھی کہ جس کے لئے شاعر کو کہنا پڑا کہ ”کوئی ہمدم نہیں ملتا جہاں میں، مجھے کچھ کہنا ہے اپنی زباں میں“۔اِسی ہمدم اور ہم سخن کی جستجو میں شاہ حسین جیسے صوفی بھی بے بسی کی حد تک پہنچے تو کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ”مائے نی میں کِنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی ‘ ‘ اور یہی وہ ہم زباں تھا کہ جس کی تلاش خواجہ فرید تک پہنچی تو وہ بھی کہہ اُٹھے کہ”کیکوں حال سنڑاواں دِل دا،کوئی محرم راز نہ مِلدا “۔ اِس ہم سخن، ہمدم، ہم زباں اور محرم راز کو تلاش کرنے کی ضرورت اب صدیوں کی مسافت کے بعد پہلے سے فزوں تر ہو چکی ہے۔ پہلے فرد تنہا ہوا، اب دنیا بھری کائنات میں اکیلی ہوتی چلی جا رہی ہے۔کان پھاڑ دینے والے شور اور روح نوچ لینے والے تشدد نے ہمیں گونگا اور بہرہ بنا دیا ہے۔ لگتا ہے پیا ر کی زبان کی تلاش میں ہم ناکام ہو چکے۔ لیکن کہیں اِس ناکامی کا سبب یہ تو نہیں کہ ہم جستجو کا سفر اپنے اندر جھانکنے کی بجائے دوسرے کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے سے شروع کرتے ہیں۔”مادری زبانوں کے عالمی دن © ©“ پر آج ذرا سوچ لینے میں کیا ہرج ہے۔٭٭

0 comments:
Post a Comment