Wednesday, 17 February 2016

یہ ہے بی ایچ یو بیول ،یعنی بنیادی مرکزصحت بیول۔حکومت پنجاب نے اسے قائم کیا اور اسے قائم ہوئے بیس سا ل سے زائد کا عرصہ گزچکاہے. بشکریہ بیول پریس
اسکے قیام کے بعد سے لیکر آج تک یہاں معمولی مرض میں مبتلا مریض کو پونسٹان، ڈسپرین، پیراسیٹا مول، فلے جل،ہائیوسین کے علاوہ یہاں کوئی دوا دستیاب نہ ہوسکی اس وجہ سے ان میں سے ہی کسی دوا پر انحصار کرنا پڑتاہے نیلے پیلے سرخ شربت چھوٹی چھوٹی پلاسٹک کی بوتلوں میں بھر کے ہر مریض کو تھما دیئے جاتے ہیں۔البتہ بیرونی فنڈز پر چلنے والے پروگرام جیسے پولیو، تشنج اور حفاظتی ٹیکہ جات مہمات کو چلانے کے لیے بھرتی کیا گیا عملہ یہاں دستیاب رہتاہے جن میں ویکسنیٹر بھی شامل ہوتاہے جو آسامی کچھ عرصہ سے خالی ہے اسکے ساتھ ساتھ یہاں ڈسپنسر بھی نایاب رہاہے ڈسپنسر کی ذمہ داری کلاس فور پوری کرتاہے اس کے علاوہ یہاں عملہ کی بھی کمی ہے۔ ثابت ہواکہ یہاں بھی کسی بیماری کا علاج ناممکن ہے ۔اس لیے یہاں کوئی جانے کی زحمت نہیں کرتا کیونکہ عمارت گرنے یا عمارت کا کوئی حصہ گرنے کا ڈر رہتاہے اور نزلہ زکام والے کو زخمی حالت میں ایمبولینس میں ڈال کر راولپنڈی کے ہسپتالوں میں لیجا نا پڑتاہے اور ایک سوروپے پرائیویٹ کلینک سے بچانے والا ہزاروں روپے خرچ کرنے پر مجبور ہوجاتاہے اس لیے مشور ہ ہے کہ بی ایچ یو بیول میں جانے والے حضرات اپنے ساتھ ایمبولینس لیجائیں اور جیب بھی بھری ہونی چاہیے ۔
سرکاری ہسپتالوں کا جوحال ہے اس پر بھی کبھی بات کی جائے گی فی الحال اسی سے کام چلایاجائے عرض ہے کہ یہ حقائق کوئی بھی شخص (قصیدہ خوان اور تنخواہ دار) بھی بی ایچ یو بیول میں جاکر پرکھ سکتے ہیں
دم پر پاؤں آنے کی صورت میں دم کاٹنے کی کوششیں نہ کریں

0 comments:

Post a Comment