ڈپریشن کی وجوہات اور اسکا علاج
----------------------------------------------
سب سے پہلے تو ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ ڈپریشن کیا ہوتا ہے؟ ڈپریشن کے معنی ہیں دباؤ۔ پریشانیاں یا مسائل انسانی زندگی کا حصہ ہیں۔ یہ دو طرح کے ہوتے ہیں۔
مسائل یا پریشانیوں کی ایک قسم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور آزمائش بهی انسان کی زندگی میں آتی ہیں، جبکہ دوسرے ایسے مسائل بهی ہوتے ہیں جو انسان اپنی کوتاہیوں یا کمیوں کی بنا پر اپنے لیے پیدا کرتا ہے.
عام طور پر پریشانی یا اضطراب یا دکھ کی کیفیت مسائل کے باعث ہر انسان میں فطری طور پر ظاہر ہے کہ پیدا ہوتی ہے، لیکن پریشانی کی یہ کیفیت اس وقت ڈپریشن کی شکل اختیار کر لیتی ہے جب انسان اپنی سوچ اور فکر کا موضوع صرف پریشانی ہی کو بنا لے اور ہر لمحہ اس کے تلے دب جائے، اپنی صورت حال کو سوچ کر اس کا سوگ مناتا رہے، جب کہ ایک دوسرا رویہ یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنے اندر اس چیز کا احساس پیدا کر لے کہ دنیا ایک عارضی امتحان گاه ہے تو بجائے پرچے کے مشکل سوالات پر کڑھنے کے انہیں حل کرنے کا سوچا جائے، ان مسائل سے نمٹنے کا سد باب کرے اس کی وجوہات دریافت کرے اور اس کے حل کے لیے سعی کرے، اور اگر کوئی مسئلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو اس پر صبر و استقامت کی روش اپنائے، تاکہ اپنی ابدی زندگی میں وہ اس پر کامیابی کا انعام پا سکے.
یہی دوسری قسم کا رویہ ایک مومن شخص سے مطلوب ہے .ایک مومن کی زندگی میں اگر کوئی پہلی قسم کا مسئلہ یا پریشانی (اللہ کی طرف سے)درپیش ہوتی ہے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے۔ اس کے لیے قرآن نے اسے صبر اور نماز سے مدد لینے کی تلقین کی ہے، جب کہ کوئی ایسا مسئلہ جو اس کی اپنی لغزش کی وجہ سے درپیش ہوتا ہے تو وہ اس پر اپنی غلطی سے رجوع کرتا ہے اور اپنی اصلاح کے ذریعے اسے حل کرتا ہے جب کہ دوسرا رویہ واویلا کرنے اور الزام تراشی کرنے کا ہوتا ہے جو ڈپریشن کی شکل اختیار کر جاتا ہے یہ وہ رویہ ہے جو قرآن کے مطابق ایک مومن سے مطلوب نہیں ہے۔
انسان کو چونکہ اللہ کی طرف سے ارادہ اور اختیار کی مکمل آزادی حاصل ہے چنانچہ انسان اپنے ذہن کی طاقت اور اللہ سے مضبوط تعلق قائم کرکے اپنا مدافعتی نظام کنٹرول کر سکتا ہے.
ڈپریشن ایک ذہنی بیماری ہے اور اس کا براہ راست اثر انسان کے طبعی تقاضوں پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے اور جسمانی نظام میں بهی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ان کا طبعی علاج بهی تب ہی ممکن ہے جب وہ اپنی ذہنی کیفیات کا سد باب کرکے ان سے چهٹکارا حاصل کرے. اور ظاہر ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے تو بجائے اس کے کہ آپ کسی بهی مسلے پر ڈپریشن کا شکار ہوں اس سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کریں۔
بقدر ضرورت میڈیسن آپ کو کیو (cure) فراہم کر سکتی ہے اسے ضرور استعمال کریں لیکن جب تک مرض کو جڑ سے ختم نا کیا جائے یہ پهر سے گرو(grow ) کرتا ہی رہے گا .اور اس صورت میں میڈیسن خاطر خواہ فائدہ نا دے سکے گی.
ڈپریشن چونکہ ایک ذہنی بیماری ہے اس لیے اس کی جڑیں ذہن کے خانوں میں ہوا کرتی ہیں جب تک ایک انسان اسے وہاں سے کاٹ کر نا پهینکے گا خالی میڈیسن سے علاج ممکن نا ہو گا بلکہ شاید اگر جڑوں کو ہی نکال باہر کر دیا جائے تو میڈیسن کی ضرورت بهی پیش نا آئے۔
اللہ کی طرف آزمائش پر ڈپریشن سے بچاؤ کی تدابیر
1. جب بهی اللہ کی طرف سے کوئی آزمائش ہو تو اس سے تعلق کے ذریعے مدد طلب کریں جس کا بہترین ذریعہ نماز اور قرآن کی تعلیمات کی طرف رجوع ہے.
2.اس آزمائش کو اپنی ابدی زندگی کے نقطہ نظر سے سوچیں اس یقین کے ساتھ کہ ایک دن اس زندگی کے ساتھ اسے بهی ختم ہو جانا ہے اور یہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہے چنانچہ نتائج کو نظر میں رکھ کر عمل کی کوشش کریں
خود ساختہ مسائل پر ڈپریشن سے بچاو کی تدابیر
1.اگر آپ کو اپنی کسی خامی یا لغزش کی بنا پر کوئی مسئلہ درپیش ہو تو سب سے پہلے اس کی ذمہ داری قبول کریں ناکہ حالات، اپنے اردگرد کے لوگوں یا قسمت وغیرہ کو اس کا الزام دیں۔
2. اس مسئلے کی وجوہات دریافت کریں اور لائحہ عمل بنائیں کہ کس طرح آپ اپنی اصلاح کر سکتے ہیں اس کے لیے اقدامات ترتیب دیں اور ان پر عمل کے ذریعے پریشانی کا حل کریں۔
3.اپنی غلطی کو نظر میں رکهیں اور آئندہ کے لیے اسے نا دوہرانے کا عزم کریں۔
4. اللہ تعالیٰ اور اس کی دی ہوئی ہدایت کے ذریعے مدد حاصل کریں
آخر میں دونوں قسم کے مسائل کو اپنے لیے ایک اوپرچونیٹی( opportunity) سمجهیں کیوں کہ آپ ان سے بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں اگر اپنے اندر کوشش اور عزم پیدا کریں۔
ایک مومن شخص پریشانی کی عمومی اور فطری کیفیت میں تو مبتلا ہو جاتا ہے لیکن ڈپریشن جیسی شدید کیفیت ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے-
اگر ان سارے مشوروں پر نیک نیتی اور عزم کے ساتھ عمل کیا جائے تو آپ ڈپریشن سے پوری طرح محفوظ رہ سکتے ہیں انشاءاللہ
سب سے پہلے تو ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ ڈپریشن کیا ہوتا ہے؟ ڈپریشن کے معنی ہیں دباؤ۔ پریشانیاں یا مسائل انسانی زندگی کا حصہ ہیں۔ یہ دو طرح کے ہوتے ہیں۔
مسائل یا پریشانیوں کی ایک قسم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور آزمائش بهی انسان کی زندگی میں آتی ہیں، جبکہ دوسرے ایسے مسائل بهی ہوتے ہیں جو انسان اپنی کوتاہیوں یا کمیوں کی بنا پر اپنے لیے پیدا کرتا ہے.
عام طور پر پریشانی یا اضطراب یا دکھ کی کیفیت مسائل کے باعث ہر انسان میں فطری طور پر ظاہر ہے کہ پیدا ہوتی ہے، لیکن پریشانی کی یہ کیفیت اس وقت ڈپریشن کی شکل اختیار کر لیتی ہے جب انسان اپنی سوچ اور فکر کا موضوع صرف پریشانی ہی کو بنا لے اور ہر لمحہ اس کے تلے دب جائے، اپنی صورت حال کو سوچ کر اس کا سوگ مناتا رہے، جب کہ ایک دوسرا رویہ یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنے اندر اس چیز کا احساس پیدا کر لے کہ دنیا ایک عارضی امتحان گاه ہے تو بجائے پرچے کے مشکل سوالات پر کڑھنے کے انہیں حل کرنے کا سوچا جائے، ان مسائل سے نمٹنے کا سد باب کرے اس کی وجوہات دریافت کرے اور اس کے حل کے لیے سعی کرے، اور اگر کوئی مسئلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو اس پر صبر و استقامت کی روش اپنائے، تاکہ اپنی ابدی زندگی میں وہ اس پر کامیابی کا انعام پا سکے.
یہی دوسری قسم کا رویہ ایک مومن شخص سے مطلوب ہے .ایک مومن کی زندگی میں اگر کوئی پہلی قسم کا مسئلہ یا پریشانی (اللہ کی طرف سے)درپیش ہوتی ہے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے۔ اس کے لیے قرآن نے اسے صبر اور نماز سے مدد لینے کی تلقین کی ہے، جب کہ کوئی ایسا مسئلہ جو اس کی اپنی لغزش کی وجہ سے درپیش ہوتا ہے تو وہ اس پر اپنی غلطی سے رجوع کرتا ہے اور اپنی اصلاح کے ذریعے اسے حل کرتا ہے جب کہ دوسرا رویہ واویلا کرنے اور الزام تراشی کرنے کا ہوتا ہے جو ڈپریشن کی شکل اختیار کر جاتا ہے یہ وہ رویہ ہے جو قرآن کے مطابق ایک مومن سے مطلوب نہیں ہے۔
انسان کو چونکہ اللہ کی طرف سے ارادہ اور اختیار کی مکمل آزادی حاصل ہے چنانچہ انسان اپنے ذہن کی طاقت اور اللہ سے مضبوط تعلق قائم کرکے اپنا مدافعتی نظام کنٹرول کر سکتا ہے.
ڈپریشن ایک ذہنی بیماری ہے اور اس کا براہ راست اثر انسان کے طبعی تقاضوں پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے اور جسمانی نظام میں بهی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ان کا طبعی علاج بهی تب ہی ممکن ہے جب وہ اپنی ذہنی کیفیات کا سد باب کرکے ان سے چهٹکارا حاصل کرے. اور ظاہر ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے تو بجائے اس کے کہ آپ کسی بهی مسلے پر ڈپریشن کا شکار ہوں اس سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کریں۔
بقدر ضرورت میڈیسن آپ کو کیو (cure) فراہم کر سکتی ہے اسے ضرور استعمال کریں لیکن جب تک مرض کو جڑ سے ختم نا کیا جائے یہ پهر سے گرو(grow ) کرتا ہی رہے گا .اور اس صورت میں میڈیسن خاطر خواہ فائدہ نا دے سکے گی.
ڈپریشن چونکہ ایک ذہنی بیماری ہے اس لیے اس کی جڑیں ذہن کے خانوں میں ہوا کرتی ہیں جب تک ایک انسان اسے وہاں سے کاٹ کر نا پهینکے گا خالی میڈیسن سے علاج ممکن نا ہو گا بلکہ شاید اگر جڑوں کو ہی نکال باہر کر دیا جائے تو میڈیسن کی ضرورت بهی پیش نا آئے۔
اللہ کی طرف آزمائش پر ڈپریشن سے بچاؤ کی تدابیر
1. جب بهی اللہ کی طرف سے کوئی آزمائش ہو تو اس سے تعلق کے ذریعے مدد طلب کریں جس کا بہترین ذریعہ نماز اور قرآن کی تعلیمات کی طرف رجوع ہے.
2.اس آزمائش کو اپنی ابدی زندگی کے نقطہ نظر سے سوچیں اس یقین کے ساتھ کہ ایک دن اس زندگی کے ساتھ اسے بهی ختم ہو جانا ہے اور یہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہے چنانچہ نتائج کو نظر میں رکھ کر عمل کی کوشش کریں
خود ساختہ مسائل پر ڈپریشن سے بچاو کی تدابیر
1.اگر آپ کو اپنی کسی خامی یا لغزش کی بنا پر کوئی مسئلہ درپیش ہو تو سب سے پہلے اس کی ذمہ داری قبول کریں ناکہ حالات، اپنے اردگرد کے لوگوں یا قسمت وغیرہ کو اس کا الزام دیں۔
2. اس مسئلے کی وجوہات دریافت کریں اور لائحہ عمل بنائیں کہ کس طرح آپ اپنی اصلاح کر سکتے ہیں اس کے لیے اقدامات ترتیب دیں اور ان پر عمل کے ذریعے پریشانی کا حل کریں۔
3.اپنی غلطی کو نظر میں رکهیں اور آئندہ کے لیے اسے نا دوہرانے کا عزم کریں۔
4. اللہ تعالیٰ اور اس کی دی ہوئی ہدایت کے ذریعے مدد حاصل کریں
آخر میں دونوں قسم کے مسائل کو اپنے لیے ایک اوپرچونیٹی( opportunity) سمجهیں کیوں کہ آپ ان سے بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں اگر اپنے اندر کوشش اور عزم پیدا کریں۔
ایک مومن شخص پریشانی کی عمومی اور فطری کیفیت میں تو مبتلا ہو جاتا ہے لیکن ڈپریشن جیسی شدید کیفیت ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے-
اگر ان سارے مشوروں پر نیک نیتی اور عزم کے ساتھ عمل کیا جائے تو آپ ڈپریشن سے پوری طرح محفوظ رہ سکتے ہیں انشاءاللہ

0 comments:
Post a Comment