سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں کے طلباء اور طالبات کو صحت مند تخلیقی
سرگرمیاں فراہم کرنے کے علاوہ عام نوجوانوں کو
بھی مثبت سرگرمیوں میں مصروف
کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ نوجوان ہمارے ملک اور معاشرے کی واضح اکثریت ہیں۔
عام نوجوانوں کی ایک صحت مند مثبت سرگرمی شجر کاری بھی ہو سکتی ہے۔ اس
شعبہ میں ہم سنگا پور کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جہاں ہر بچے کی
پیدائش پر اس کے نام کا ایک درخت لگایا جاتا ہے۔ اس درخت کی
پرورش حفاظت اس بچے کے ذمے ہوتی ہے۔ تصور پایا جاتا ہے کہ اگر خدانخواستہ
بچہ وفات پا جائے تو وہ اس کے نام سے اگائے یا لگائے گئے درخت میں زندہ ہو
گا۔ اس طریقے سے سنگا پور نے اپنے ملک کو سرسبز اور شاداب بنا لیا ہے۔ قدیم
مصر کی تہذیب سے پتہ چلتا ہے کہ جب کسی لمحہ میں بیٹی پیدا ہوتی تھی تو اس
کے نام کے سات درخت لگائے جاتے تھے۔ بیٹی کے ساتھ وہ سات درخت بھی جوان
ہوتے تھے اور بیٹی کی شادی پر وہ درخت اسے بطور جہیز کاٹ کر دیئے جاتے تھے
کہ اپنے استعمال میں لا سکے۔ اس طریقے سے وادی نیل کے صحراؤں کو سرسبز و
شاداب کیا گیا تھا پاکستان کے نوجوانوں کو شجر کاری کے ذریعے موسمی انقلاب
برپا کرنے پر آسانی سے مصروف کیا جا سکتا ہے
شجرکاری مہم کو ہر طرح سے فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک پودا پوری زندگی
کے لئے صدقہ جاریہ ہے۔ سنگاپور والی مثال کتنی عملی اور اچھی ہے۔ اسی طرح
میرے بھتیجے کے سکول میں ہر بچے سے داخلے کے وقت ایک پودا لگوایا جاتا ہے۔
اب چاہے وہ درخت والا پودا ہو یا گملے میں ہو۔ پھر وہ بچہ جب تک اس سکول
میں ہے، وہ اس کی ذمہ داری ہے۔ وہ اس کا خیال رکھتا ہے۔ اس کی ٹیچر اس کو
اس پر گریڈ بھی دیتی ہیں اور سالانہ رپورٹ میں کسی ایک بچے کو انعام بھی
دیا جاتا ہے جس نے سب سے زیادہ اپنے پودے اور باقی ماحول کا خیال رکھا ہو۔
یوں بچہ اور پودا ساتھ ساتھ بڑھتے ہیں۔
شجرکاری مہم کو ہر طرح سے فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک پودا پوری زندگی کے لئے صدقہ جاریہ ہے۔ سنگاپور والی مثال کتنی عملی اور اچھی ہے۔ اسی طرح میرے بھتیجے کے سکول میں ہر بچے سے داخلے کے وقت ایک پودا لگوایا جاتا ہے۔ اب چاہے وہ درخت والا پودا ہو یا گملے میں ہو۔ پھر وہ بچہ جب تک اس سکول میں ہے، وہ اس کی ذمہ داری ہے۔ وہ اس کا خیال رکھتا ہے۔ اس کی ٹیچر اس کو اس پر گریڈ بھی دیتی ہیں اور سالانہ رپورٹ میں کسی ایک بچے کو انعام بھی دیا جاتا ہے جس نے سب سے زیادہ اپنے پودے اور باقی ماحول کا خیال رکھا ہو۔ یوں بچہ اور پودا ساتھ ساتھ بڑھتے ہیں۔
کسی ملک کے تقریبن 25٪ حصے پر جنگلات ہونے چاہیں مگر پاکستان میں صرف 5٪ حصے پہ ہیں۔
اگر اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں میں سے ہر ایک 20 درخت لگائے تو 5 سال کے اندر ہم پانی کی قلت ، گلوبل وارمنگ عالمی حدت ، اور ماحولیاتی مسائل سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔
یعنی ہمیں
180000000 * 20 = 3600000000
پاکستان میں تین ارب ساٹھ کروڑ درخت اگانے ہیں۔
شجرکاری مہم کو ہر طرح سے فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک پودا پوری زندگی کے لئے صدقہ جاریہ ہے۔ سنگاپور والی مثال کتنی عملی اور اچھی ہے۔ اسی طرح میرے بھتیجے کے سکول میں ہر بچے سے داخلے کے وقت ایک پودا لگوایا جاتا ہے۔ اب چاہے وہ درخت والا پودا ہو یا گملے میں ہو۔ پھر وہ بچہ جب تک اس سکول میں ہے، وہ اس کی ذمہ داری ہے۔ وہ اس کا خیال رکھتا ہے۔ اس کی ٹیچر اس کو اس پر گریڈ بھی دیتی ہیں اور سالانہ رپورٹ میں کسی ایک بچے کو انعام بھی دیا جاتا ہے جس نے سب سے زیادہ اپنے پودے اور باقی ماحول کا خیال رکھا ہو۔ یوں بچہ اور پودا ساتھ ساتھ بڑھتے ہیں۔
کسی ملک کے تقریبن 25٪ حصے پر جنگلات ہونے چاہیں مگر پاکستان میں صرف 5٪ حصے پہ ہیں۔
اگر اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں میں سے ہر ایک 20 درخت لگائے تو 5 سال کے اندر ہم پانی کی قلت ، گلوبل وارمنگ عالمی حدت ، اور ماحولیاتی مسائل سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔
یعنی ہمیں
180000000 * 20 = 3600000000
پاکستان میں تین ارب ساٹھ کروڑ درخت اگانے ہیں۔

0 comments:
Post a Comment