Sunday, 14 February 2016

 
 یوم تجدید محبت منانے کے نام پر کھلم کھلا بے راہ روی کی ترغیب دی جا رہی ہے اور اسلامی معاشرے میں ان غیر مسلموں کے تہواروں کو جان بوجھ کر ہوا دی جارہی ہے تاکہ مسلمان اپنے مبارک اور پاک تہوار چھوڑ کر غیر اسلامی تہوار منا کر اسلام دور ہو جائیں ۔یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہو رہا ہے اور اس کی تشہیر میں پرنٹ میڈیا اور الیکڑونک میڈیا کو پھرپور ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اور اس دن کو خاص پروگرام دکھا کر یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے جیسے کہ یہ غیر مضرت رساں یامسلمانوں ہی کا کوئی تہوار ہے ۔
لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے یہ انسان کی ناجائز نفسانی خواہشات کے پروان چڑھانے کو ہوا دینا ہے ۔ کہ جس کی اسلام کسی صورت اجازت نہیں دیتا ۔ اور ہم اب اس دن اربوں روپے خرچ کرکے بڑے شایان شان سے اس کو مناتے ہیں کہ جیسے بہت ہی مقدس تہوار ہو۔ اگر ہم یورپ کی بات کریں تو ادھر بھی اس تہوار کو آوارہ نوجوانوں کی عیاشی اور محبت کے نام سے اس دن کو منسوب کیا گیا ہے ۔ لیکن حقیقت میں ایک غیر اسلامی معاشرے میں بھی عوام کی اکثریت اس تہوار کو غلط سمجھتی ہے ۔ لیکن ہمارے معاشرہ کہ جس کو ایک اسلامی معاشرہ تصور کیا جاتا ہے اس میں اس قسم کے تہوار منانا ایک لمحہ فکریہ ہے ۔

0 comments:

Post a Comment