یوم تجدید محبت منانے کے نام پر کھلم کھلا بے راہ روی کی ترغیب دی جا
رہی ہے اور اسلامی معاشرے میں ان غیر مسلموں کے تہواروں کو جان بوجھ کر ہوا
دی جارہی ہے تاکہ مسلمان اپنے مبارک اور پاک تہوار چھوڑ کر غیر اسلامی
تہوار منا کر اسلام دور ہو جائیں ۔یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہو
رہا ہے اور اس کی تشہیر میں پرنٹ میڈیا اور الیکڑونک میڈیا کو پھرپور
ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اور اس دن کو خاص پروگرام دکھا کر یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے جیسے کہ یہ غیر مضرت رساں یامسلمانوں ہی کا کوئی تہوار ہے ۔
لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے یہ انسان کی ناجائز نفسانی خواہشات کے پروان چڑھانے کو ہوا دینا ہے ۔ کہ جس کی اسلام کسی صورت اجازت نہیں دیتا ۔ اور ہم اب اس دن اربوں روپے خرچ کرکے بڑے شایان شان سے اس کو مناتے ہیں کہ جیسے بہت ہی مقدس تہوار ہو۔ اگر ہم یورپ کی بات کریں تو ادھر بھی اس تہوار کو آوارہ نوجوانوں کی عیاشی اور محبت کے نام سے اس دن کو منسوب کیا گیا ہے ۔ لیکن حقیقت میں ایک غیر اسلامی معاشرے میں بھی عوام کی اکثریت اس تہوار کو غلط سمجھتی ہے ۔ لیکن ہمارے معاشرہ کہ جس کو ایک اسلامی معاشرہ تصور کیا جاتا ہے اس میں اس قسم کے تہوار منانا ایک لمحہ فکریہ ہے ۔
لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے یہ انسان کی ناجائز نفسانی خواہشات کے پروان چڑھانے کو ہوا دینا ہے ۔ کہ جس کی اسلام کسی صورت اجازت نہیں دیتا ۔ اور ہم اب اس دن اربوں روپے خرچ کرکے بڑے شایان شان سے اس کو مناتے ہیں کہ جیسے بہت ہی مقدس تہوار ہو۔ اگر ہم یورپ کی بات کریں تو ادھر بھی اس تہوار کو آوارہ نوجوانوں کی عیاشی اور محبت کے نام سے اس دن کو منسوب کیا گیا ہے ۔ لیکن حقیقت میں ایک غیر اسلامی معاشرے میں بھی عوام کی اکثریت اس تہوار کو غلط سمجھتی ہے ۔ لیکن ہمارے معاشرہ کہ جس کو ایک اسلامی معاشرہ تصور کیا جاتا ہے اس میں اس قسم کے تہوار منانا ایک لمحہ فکریہ ہے ۔

0 comments:
Post a Comment