پی ٹی آئی کے سینئر ورکر اور یوکے کے مشہور بزنس مین چوہدری عابد نے کہا سیاست ہو یا کھیل، ہار اور جیت زندگی کا حصہ ہیں، کسی ایک جیتنا ہوتا ہے اور کسی ایک نے بہرحال ہارنا ہوتا ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیش آتا ہے جب ہم جیت کے گھمنڈ میں تکبر پر اُتر آئیں اور ہار کو تسلیم نہ کرتے ہوئے غصہ دکھائیں۔حلقہ کے تمام ووٹروں کے تہہ دل سے مشکور ہیں جنھوں نے انہیں اپنے قیمتی ووٹ سے نوازا
نے کہا ہے کہ وہ حلقہ کے تمام ووٹروں کے تہہ دل سے مشکور ہیں جنھوں نے انہیں اپنے قیمتی ووٹ سے نوازا، انہوں نے کہا کہ ہار جیت سیاست کا حصہ ہے ، پاکستان تحریک انصاف کا سیاسی مستقبل روشن ہے. انشاء اﷲعوام کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔
ہم دنیا کے خیالات کو بدل رہے ہیں جہاں کوئی آپ کی بات میں ہاں میں ہاں ملائے گا آپ اسے اپنا دوست سمجھیں گے اور جہاں اس نے نفی کی آپ نے اس کو اپنا دشمن گرداننا شروع کر دیا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ عدم برداشت سے چھٹکارا بھی ممکن ہے کہ نہیں؟
اسلام نے برداشت کا سبق آج سے 14 سو سال پہلے ہمیں دیا تھا اور صرف سبق ہی نہیں دیا بلکہ ثابت بھی کرکے دکھایا تھا۔ وہی عرب جو صدیوں سے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے آپس میں انصار اور مہاجر اس طرح اخوت کی لڑی میں پرو گئے کہ جو رہتی دنیا کیلئے مثال ہیں پھر فتح مکہ کے انقلاب کی مثال ہمارے لئے برداشت کا وہ بہترین نمونہ ہے جو دنیا نے آج تک نہیں دیکھا، فتح مکہ کے بعد ہر ایک کو عام معافی مل گئی ۔
نیلسن منڈیلا 27 سال انگریزوں کی قید میں رہے، ان 27 برسوں میں 6 سال وہ قیدِ تنہائی بھی شامل تھی جس میں انہوں نے نہ باہر کی کوئی آواز نہ سنی اور نہ ہی انہوں نے باہر کا آسمان دیکھا۔ یہ ایک ایسی اذیت ناک قید تھی کہ جس کا تصور بھی محال ہے کجا یہ کہ معافی کا سوچا جائے لیکن نیلسن منڈیلا نے اس قید سے باہر آتے ہی ان سب لوگوں کو معاف کر دیا کہ جنہوں نے اس پر مظالم کے پہاڑ توڑے تھے۔ اُنہوں نے اقتدار میں آتے ہی نہ صرف انگریز عملہ کو اپنی جگہ پر بحال رکھا بلکہ اپنی سکیورٹی تک کیلئے انہیں تعینات رکھا اور اس طرح ان کی سیکورٹی انگریز عملہ ہی سر انجام دیتا رہا جو ایک انتہائی مشکل فیصلہ تھا لیکن انہوں نے اپنے برداشت سے یہ سب کر دکھایا۔
عدم برداشت وہ بیماری ہے کہ جس کا تریاق اپنے زہر کے اندر ہے، اگر آپ میں عدم برداشت ہے تو آپ اپنے مخالفین کو سننا شروع کر دیں جس حد تک سن سکتے ہیں، اپنی باری کا حق چھوڑ کر دوسرے کو اپنی باری دینا شروع کردیں، جس نے آپ کے ساتھ زیادتی کی ہے، کم از کم آپ دل میں اسے خیال کرکے معاف کریں پھر دیکھئے آپ میں برداشت کی قوت میں اضافہ ہونا شروع ہوجائے گا۔ آغاز میں یہ تھوڑا مشکل ضرور ہوگا لیکن میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جیسے جیسے آپ آگے بڑھتے جائیں گے آپ کی طاقت میں روز بروز اضافہ ہوتا جائے گا، یاد رکھیئے عدم برداشت کی بیماری دوسروں کو کم آپ کو زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔

0 comments:
Post a Comment