گروہ بندی کی حِس انسان کی فطرت میں پوشیدہ ہے۔احکام کا بجا لانا بھی طبعی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اِس احساس کو بے ضرر‘ بلکہ فائدہ مند کیسے بنایا جائے۔ اگر اِسے اچھائی کی طرف نہ موڑا جائے تو یہ اکثر انسان کو اور اِس کی فطرت کو بھی اُلٹی سمت میں لے جاناشروع کر دیتی ہے۔اور خود متعلقہ شخص کے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی ضرررساں بن جاتی ہے۔ جتنا عرصہ یہ حِس جہالت‘ناشائستگی اور تعصب جیسے مضرِ انسانی پہلوﺅں سے مدد لیتی رہتی ہے تب تک سمجھ لیجیئے کہ قتل و غارت اور لڑائی جھگڑے تیار کھڑے رہتے ہیں ۔ اِس کے برعکس جِس نسبت سے تعلیم و عرفان‘ تحمل و برداشت کا جذبہ اُسی نسبت سے باہمی سمجھوتوں اور صلح صفائی کا ماحول پیدا ہوتا جائے گا او ر مختلف گروہوں کے مابین ایک ”امن کی لکیر“ کے دکھائی دیتے رہنے کا احتمال ہمیشہ موجود رہے گا۔میرا خیال ہے کہ یوں فطرت اور فطرت کے قوانین کی حدود میں رہتے ہوئے ہمارے ردِّ عمل کی تیزی کو بریک لگ جائے گی اورہماری گرم مزاجی اور غصّے پر قابو پایا جا سکے گا۔
دعوے کا انصاف پر مبنی ہونا‘ہدف اور بنیادی اصولوں کا مشترک ہونا‘یہ اتنے مضبوط‘ گہری جڑوں والے اور کبھی نہ ڈو لنے والے عناصر ہیں جو ضوابط اور وسیلوں کے اختلافات کو بے اثر بنا سکتے ہیں ۔اس صورتِ حال میں غیر اہم بہانوں کے ذریعے اختلافات پیدا کرنا طفلانہ مزاج‘ حقیقت سے نا واقفیت‘ اور بے مروّتی کی علامت اور بے فائدہ ہونے کے علاوہ ایک خطرناک سوچ بھی ہے۔
میرے خیال میں ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی منتخب کردہ راہ کو بیان کرنے‘ اِسے متعارف کرانے اور اِس پر چلنے کی رائے دینے میں مشغول رہے اور زندگی اُس کی محبت میں گزارے۔یہ راستہ جس طرح عقل اور منطق کا راستہ ہے اِسی طرح ایمان اور قرآن کے مطابق ایک ضرورت بھی ہے۔
دورِ رسالت پناہ میں لوگوں کی یہی سوچ تھی اور عملی زندگی بھی اِسی سوچ کے خطوط پر جاری رہتی تھی۔ باوجود اِس بات کے کہ افہام و تفہیم کے عناصر شعور کی سطح تک پہنچ چکے تھے اور دوستی کے معنی بھی خاصی حد تک آگے کی سطح تک پہنچائے جا چکے تھے‘ پھر بھی اس وقت تک علیحدہ علیحدہ قسم کے پھولوں اور پھلوں کی ضمانت دینے والی مختلف قسم کی استعداد کِسی طور پر حاصل نہیں ہو سکی تھی۔

0 comments:
Post a Comment