اظہارِ عقیدت کی جنگی مشق؟
یہ کوئی قبل از مسیح کا تذکرہ نہیں یہی کوئی تیس پینتیس برس پہلے کی بات ہے جب عید میلاد النبی کے جلوس میں مقامی مدارس کے علماِ دین ہار پھول پہنے آگے آگے چل رہے ہوتے اور جلوس کی آخری اونٹ گاڑی کے پیچھے پانچ چھ سپاہی ہاتھوں میں چھوٹے ڈنڈے اٹھائے خراماں خراماں رہتے۔
محرم کی مجالس امام بارگاہوں کے علاوہ کھلے میدانوں میں ہونا سالانہ معمول تھا۔کوئی سکیورٹی گیٹ یا کسی محافظ کے ہاتھ میں برقی جھرلو نہیں تھا۔جلوس بھلے زیلی ہو کہ مرکزی آگے پیچھے نو عمر باوردی سکاؤٹس ہاتھوں کی علامتی زنجیر بنائے چلتے۔
عاشورہ پر سکیورٹی الرٹ، متعدد مذہبی رہنما زیرِ حراست
محرم کی مجالس امام بارگاہوں کے علاوہ کھلے میدانوں میں ہونا سالانہ معمول تھا۔کوئی سکیورٹی گیٹ یا کسی محافظ کے ہاتھ میں برقی جھرلو نہیں تھا۔جلوس بھلے زیلی ہو کہ مرکزی آگے پیچھے نو عمر باوردی سکاؤٹس ہاتھوں کی علامتی زنجیر بنائے چلتے۔
عاشورہ پر سکیورٹی الرٹ، متعدد مذہبی رہنما زیرِ حراست
بیشتر تعزیے کچھ سنی خاندان نسل در نسل فخریہ بناتے تھے اور جلوس کی راہ میں نیاز و خیرات کا کام اور شربت و ٹھنڈے پانی کی سبیلوں کا اکثر انتظام بھی سنی تاجروں اور نوجوانوں کے ہی ہاتھ میں رہتا ۔
مجالس ایک آدھ گھر کا نہیں پورے محلے کا معاملہ تھیں۔سنّی بچے اور بڑے بھی ان مجالس میں شریک ہوتے بھلے ماتم نہ بھی کریں۔البتہ تبرک بلا امتیاز بانٹا اور لیا جاتا ۔جن بزرگوں کو یہ باتیں بدعت محسوس ہوتیں وہ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کے ناگواری کا اظہار کرتے اور وہ بھی زیرِ لب۔
ماتم گذاروں کے زخمی ہونے کی خبر تو کہیں نہ کہیں چھپ جاتی۔کہیں کہیں دھینگا مشتی بھی ہو جاتی ۔مگر علاقے کے بزرگ بنا کوئی اعلانیہ امن کمیٹی بنائے ہاتھ کے ہاتھ معاملہ نپٹا دیا کرتے۔ شاید ہی کسی نے سنا ہو کہ کسی جلوس پر فائرنگ ہوگئی، بم پھٹ گیا یا نامعلوم افراد ہلہ بول کے چمپت ہوگئے ۔
مگر جب اس سماج کو ’ضیا بیطس‘ ہوگئی اور دوست ممالک نے باکسنگ میچ کے لیے پاکستان موزوں اکھاڑہ قرار پایا تو سب سے پہلی شہادت رواداری و وسیع المشربی کی بنیاد پر ٹکے عید میلاد النبی اور محرم کلچر کی ہوئی اور کھلے پن کی روایت کے سر پر سینگ نکل آئے ۔
آج صورت یہ ہے کہ ربیع الاول کے اجتماعات اور جلسوں کے لیے بالعموم اور عشرہِ محرم کی مجالس اور جلوسوں کے لیے بالخصوص سرکار کو کروڑوں روپے لگا کے جو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں وہ جنگی مشقوں سے کسی طور کم نہیں۔
سب سے پہلے نقصِ امن کے قوانین کے تحت خطابت کے پٹرول سے منہ سے آگ کے گولے نکالنے کے ماہر مقرروں کی بین الصوبائی و بین الاضلاحی نقل و حرکت محدود کی جاتی ہے ( اس بار ملک بھر میں تقریباً ڈیڑھ ہزار زاکروں اور مولویوں کی نقل و حرکت محدود کی گئی)۔
مجالس ایک آدھ گھر کا نہیں پورے محلے کا معاملہ تھیں۔سنّی بچے اور بڑے بھی ان مجالس میں شریک ہوتے بھلے ماتم نہ بھی کریں۔البتہ تبرک بلا امتیاز بانٹا اور لیا جاتا ۔جن بزرگوں کو یہ باتیں بدعت محسوس ہوتیں وہ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کے ناگواری کا اظہار کرتے اور وہ بھی زیرِ لب۔
ماتم گذاروں کے زخمی ہونے کی خبر تو کہیں نہ کہیں چھپ جاتی۔کہیں کہیں دھینگا مشتی بھی ہو جاتی ۔مگر علاقے کے بزرگ بنا کوئی اعلانیہ امن کمیٹی بنائے ہاتھ کے ہاتھ معاملہ نپٹا دیا کرتے۔ شاید ہی کسی نے سنا ہو کہ کسی جلوس پر فائرنگ ہوگئی، بم پھٹ گیا یا نامعلوم افراد ہلہ بول کے چمپت ہوگئے ۔
مگر جب اس سماج کو ’ضیا بیطس‘ ہوگئی اور دوست ممالک نے باکسنگ میچ کے لیے پاکستان موزوں اکھاڑہ قرار پایا تو سب سے پہلی شہادت رواداری و وسیع المشربی کی بنیاد پر ٹکے عید میلاد النبی اور محرم کلچر کی ہوئی اور کھلے پن کی روایت کے سر پر سینگ نکل آئے ۔
آج صورت یہ ہے کہ ربیع الاول کے اجتماعات اور جلسوں کے لیے بالعموم اور عشرہِ محرم کی مجالس اور جلوسوں کے لیے بالخصوص سرکار کو کروڑوں روپے لگا کے جو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں وہ جنگی مشقوں سے کسی طور کم نہیں۔
سب سے پہلے نقصِ امن کے قوانین کے تحت خطابت کے پٹرول سے منہ سے آگ کے گولے نکالنے کے ماہر مقرروں کی بین الصوبائی و بین الاضلاحی نقل و حرکت محدود کی جاتی ہے ( اس بار ملک بھر میں تقریباً ڈیڑھ ہزار زاکروں اور مولویوں کی نقل و حرکت محدود کی گئی)۔
ساتھ ہی ساتھ لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال ، نفرت انگیز مواد کی تقسیم ، اشتعال انگیز نعروں کی وال چاکنگ، ہوائی فائرنگ اور ہتھیاروں کی کھلے عام نمائش پر 60 دن کے لیے پابندی لگائی جاتی ہے (حالانکہ سب سے بڑے شیعہ ملک ایران اور سب سے بااثر سّنی ملک سعودی عرب بشمول خلیجی ریاستوں میں یہ پابندیاں سال کے بارہ ماہ کے لیے ہوتی ہیں)۔
وہ جلوس جن کے انتظام و تحفظ کے لیے تین عشرے پہلے تک محض مقامی تھانے کی پولیس ہی کافی سمجھی جاتی تھی ۔اب اسی کام کے لیے پنجاب میں ایک لاکھ پولیس والے اور نیم فوجی سپاہی ایڑیوں کے بل کھڑے ہیں۔سندھ اور اس کے دارلحکومت کراچی سمیت صوبے بھر میں 64 ہزار پولیس والے جلسوں جلوسوں کی حفاظت پر معمور ہیں۔
بلوچستان میں صرف کوئٹہ شہر میں ساڑھے سات ہزار پولیس اور فرنٹئیر کور والے یہاں سے وہاں تک گھوم رہے ہیں۔مختلف شہروں کی اہم شاہراہیں ناکہ بند ہیں اور حساس راستوں پر نگاہ رکھنے کے لیے ہیلی کاپٹر اور ڈرونز اڑ رہے ہیں۔
وہ جلوس جن کے انتظام و تحفظ کے لیے تین عشرے پہلے تک محض مقامی تھانے کی پولیس ہی کافی سمجھی جاتی تھی ۔اب اسی کام کے لیے پنجاب میں ایک لاکھ پولیس والے اور نیم فوجی سپاہی ایڑیوں کے بل کھڑے ہیں۔سندھ اور اس کے دارلحکومت کراچی سمیت صوبے بھر میں 64 ہزار پولیس والے جلسوں جلوسوں کی حفاظت پر معمور ہیں۔
بلوچستان میں صرف کوئٹہ شہر میں ساڑھے سات ہزار پولیس اور فرنٹئیر کور والے یہاں سے وہاں تک گھوم رہے ہیں۔مختلف شہروں کی اہم شاہراہیں ناکہ بند ہیں اور حساس راستوں پر نگاہ رکھنے کے لیے ہیلی کاپٹر اور ڈرونز اڑ رہے ہیں۔
ہر برس کی طرح محرم میں ہزاروں اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں
موٹر سائیکل پر ڈبل سواری ملک گیر ہے۔68 سے زائد شہروں میں دو دن کے لیے موبائل فون سروس صبح سے رات تک معطل رہے گی۔انٹرنیٹ سروسز بھی کئی علاقوں میں ڈاؤن گریڈ ہیں۔تمام بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے۔ نجی و سرکاری ایمبولینسوں کے ڈرائیور تیار بیٹھے ہیں۔پس منظر میں فوجی دستوں کو بھی حالتِ خبرداری میں رکھا گیا ہے ( ایسی تیاریاں تو 65 اور 71 کی جنگوں سے پہلے بھی نہ ہوتی تھیں )۔
گو موجودہ حالات میں حکومت نے حتی الوسع امکانی حفاظتی اقدامات کر رکھے ہیں لیکن کیا اس حالت پر اطمینان کا اظہار کیا جائے یا اداسی کا؟
ہاں انہی تین عشروں میں مساجد اور امام بارگاہوں کی تعداد چوگنی ہو چکی۔ عبادت گزاروں کی تعداد بھی پہلے سے تین گنا ہو گئی۔مگر دلوں میں گنجائش پہلے سے چار گنا کس نے کم کر دی؟ خوف تین گنا کیسے بڑھ گیا؟ اظہارِ عقیدت ایک جنگی معرکہ سر کرنے جیسا کیوں ہوگیا؟ کیا سب سے زیادہ جوشیلے اور باایمان مسلمان پاکستان میں ہی بستے ہیں؟
پہلے ان بنیادی سوالوں کا تسلی بخش انفرادی و اجتماعی جواب تلاش کر لیجیے۔
موٹر سائیکل پر ڈبل سواری ملک گیر ہے۔68 سے زائد شہروں میں دو دن کے لیے موبائل فون سروس صبح سے رات تک معطل رہے گی۔انٹرنیٹ سروسز بھی کئی علاقوں میں ڈاؤن گریڈ ہیں۔تمام بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے۔ نجی و سرکاری ایمبولینسوں کے ڈرائیور تیار بیٹھے ہیں۔پس منظر میں فوجی دستوں کو بھی حالتِ خبرداری میں رکھا گیا ہے ( ایسی تیاریاں تو 65 اور 71 کی جنگوں سے پہلے بھی نہ ہوتی تھیں )۔
گو موجودہ حالات میں حکومت نے حتی الوسع امکانی حفاظتی اقدامات کر رکھے ہیں لیکن کیا اس حالت پر اطمینان کا اظہار کیا جائے یا اداسی کا؟
ہاں انہی تین عشروں میں مساجد اور امام بارگاہوں کی تعداد چوگنی ہو چکی۔ عبادت گزاروں کی تعداد بھی پہلے سے تین گنا ہو گئی۔مگر دلوں میں گنجائش پہلے سے چار گنا کس نے کم کر دی؟ خوف تین گنا کیسے بڑھ گیا؟ اظہارِ عقیدت ایک جنگی معرکہ سر کرنے جیسا کیوں ہوگیا؟ کیا سب سے زیادہ جوشیلے اور باایمان مسلمان پاکستان میں ہی بستے ہیں؟
پہلے ان بنیادی سوالوں کا تسلی بخش انفرادی و اجتماعی جواب تلاش کر لیجیے۔

0 comments:
Post a Comment