یہ اکیلے پن کی اداسیاں
یہ فراق لمحے عذاب سے
کبھی دشتٍ دل پہ بھی آ رکیں
تیری چاہتوں کے عذاب سے
میں ہوں تجھ کو جاں سے عزیز تر
میں یہ کیسے مان لوں ہمسفر
تیری بات لگتی ہے وہم سی
تیرے لفظ لگتے ہیں خواب سے
یہ جو میرا رنگ و روپ ہے
یونہی بے سبب نہیں دوستو
میرے خوشبووں سے ہیں سلسلے
میری نسبتیں ہیں گلاب سے
اسے جیتنا ہے تو ہم نشیں
یونہی گفتگو سے نہ کام لے
کوئ چاند لا کے جبیں پہ رکھ
لا کوئ گہر تہہ آب سے
وہ معتبر ہے میرے لیے
وہ ہی حاصلٍ دل و جان ہے
یہ فراق لمحے عذاب سے
کبھی دشتٍ دل پہ بھی آ رکیں
تیری چاہتوں کے عذاب سے
میں ہوں تجھ کو جاں سے عزیز تر
میں یہ کیسے مان لوں ہمسفر
تیری بات لگتی ہے وہم سی
تیرے لفظ لگتے ہیں خواب سے
یہ جو میرا رنگ و روپ ہے
یونہی بے سبب نہیں دوستو
میرے خوشبووں سے ہیں سلسلے
میری نسبتیں ہیں گلاب سے
اسے جیتنا ہے تو ہم نشیں
یونہی گفتگو سے نہ کام لے
کوئ چاند لا کے جبیں پہ رکھ
لا کوئ گہر تہہ آب سے
وہ معتبر ہے میرے لیے
وہ ہی حاصلٍ دل و جان ہے
وہ جو انتخاب تم نے چرا لیا
میری زندگی کی کتاب سے
میری زندگی کی کتاب سے
حلقہ این اے 122: ’شکست تسلیم لیکن انتخاب پر تحفظات ہیں‘
چوہدری جاوید کوثرایڈووکیٹ
چوہدری جاوید کوثرایڈووکیٹ

0 comments:
Post a Comment