Saturday, 10 October 2015



ترکی کی وزارت داخلہ کے مطابق دارالحکومت انقرہ میں ایک امن ریلي کے دوران دو بم دھماکوں میں 86 افراد ہلاک اور 186 زخمی ہوگئے ہیں۔
ترکی میں ٹی وی پہ دکھائے جانے والے مناظر میں لوگوں کو گھبراہٹ میں بھاگتے اور خون میں لت پت زمین پر پڑے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ترکی میں کرد باغیوں کے حملوں میں اضافہ کیوں؟
’کردوں کے ساتھ جنگ بندی قائم نہیں رہ سکتی‘
حکام کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے شدت پسندوں نے کیے ہیں۔ ان اطلاعات کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں ان میں سے ایک خود کش حملہ تھا۔
ترک صدر نے ان حملوں کو ’دہشت گرد کارروائی‘ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے انادلو کے مطابق ان دھماکوں کے بارے میں وزیر داخلہ اور وزیر صحت نے وزیر اعظم احمد اوغلو کو بریفنگ دی ہے۔
دھماکے اس وقت ہوئے جب لوگ ایک امن ریلی میں حصہ لینے کے لیے جمع ہو رہے تھے۔ ریلی کا مقصد کرد علیحدگی پسند گروہ پی کے کے، کے خلاف تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کرنا تھا۔
سنیچر کو ’امن اور جمہوریت‘ نام کی اس ریلی کی کال دینے والوں میں کرد نواز جماعت ایچ ڈی پی بھی شامل تھی۔ ریلی مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے شروع ہونا تھی۔

یہ دھماکے شہر کے مرکزی ریلوے اسٹیشن کے قریب ہوئے ہیں
ایک مقامی شہری نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے دو دھماکوں کی آوازیں سنیں اور متعدد لاشیں دیکھیں۔
انھوں نے بتایا کہ لوگوں نے پولیس کی گاڑیوں پر حملہ کرنے کی بھی کوشش کی۔
ایچ ڈی پی نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’بہت سے لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں اور پولیس ان افراد کو نشانہ بنا رہی ہے جو زخمیوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
خیال رہے کہ اس سے قبل جون میں بھی ایچ ڈی پی کی ریلی کو دیار بکیر شہر میں عام انتخابات سے قبل نشانہ بنایا گيا تھا۔
کرد جنگجو گروہ پی کے کے اور ترک حکومت کے درمیان جنگی بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد سے اس قسم کے حملے دونوں جانب سے تواتر کے ساتھ ہو رہے ہیں۔

0 comments:

Post a Comment